ابنا: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ ملک کے کچھ سیاستداں طالبان دہشت گردوں سے خوفزدہ اور ان کے سامنے بزدلی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور وہ دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر جان بوجھ کر قوم کو مغالطے میں ڈال رہے ہیں ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے سیاستدانوں میں سے کچھ طالبان کے معاملے پر واضح موقف اختیار کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں کر سکتے۔ بلاول بھٹوکا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کی نہیں بلکہ غیرمشروط مذاکرات کی بات کی جو کمزوری کی نشانی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تحفظات کے باوجود طالبان سے بات چیت کے معاملے پر ان کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ چھ ماہ بعد مذاکرات کی باتیں تو بہت ہوئی ہیں لیکن عملی اقدام کوئی نہیں۔ ہم نے واضح کیا ہے کہ اگر وہ اب مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو وہ غیرمشروط نہیں ہو سکتے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ صرف ان کے ہتھیار ڈالنے کی شرائط طے کرنے کے لیے مذاکرات پر تیار ہیں۔ بلاول بھٹونے کہا کہ ان کا مقصد پاکستان کا وزیراعظم بننا نہیں،ان کا مشن اس نظریے کو کامیاب بنانا ہے کہ تمام امن اور ترقی پسند قوتیں متحد ہو کر کام کریں۔
.......
/169